Thursday, 30 May 2024, 02:53:27 pm
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں میں شادی شدہ پاکستانی خواتین کو غیر یقینی مستقبل کا سامنا
April 21, 2024

کشمیری نوجوانوں سے شادی کرنے والی تقریباً 350پاکستانی خواتین کو بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی حکومت کے امتیازی قوانین کی وجہ سے غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ خواتین کئی دہائیاں قبل بحالی پروگرام کے تحت اپنے کشمیری شوہروں کے ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر گئی تھیں وہ بری طرح پھنس چکی ہیں اوراب ان کے پاس نہ تو سفری دستاویزات ہیں اورنہ پاکستان میں اپنے خاندانوں کے پاس واپس جانے کی اجازت ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں نے ان خواتین کے حقوق کی پامالی خصوصاًان کی نقل و حرکت پر پابندی لگانے اور انہیں اپنے خاندانوں کے پاس واپس جانے سے روکنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ادھر کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے جھوٹے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے سچ کو مسخ اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلسل نظربندیوں، کشمیریوں کے خلاف ظالمانہ قوانین کے استعمال، آئے روز چھاپوں اور محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں نے حالات معمول کے مطابق ہونے کے بھارتی دعوے بے نقاب کر دیئے ہیں۔

رپورٹ میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت پر دبا ئوڈالے کہ وہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے دے۔

ادھر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما وحید الرحمن پرہ نے کہا ہے کہ کشمیری عوام بھارت سے خوش نہیں اور لوک سبھا انتخابات کوبھارت کے خلاف ایک ریفرنڈم سمجھاجانا چاہیے۔