بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے حریت رہنما یاسین ملک کے خلاف درج مقدمات کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
حریت کانفرنس نے ایک بیان میں غیر قانونی طور پر قید یاسین ملک کے خلاف مقدمے کی کارروائی کے بھارتی عدالتی طریقہ کار کی شدید مذمت کی۔
حریت کانفرنس نے کہا کہ تہاڑ جیل میں قید یاسین ملک کو مبینہ واقعے کے چھتیس سال بعد نئے مقدمے کا سامنا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس سے مقدمے کے وقت، ساکھ اور مقصد کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
ادھر بھارتی پولیس نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ظالمانہ قانون کے تحت ضلع سوپور میں جماعت اسلامی جموں و کشمیر کی ملکیت دو عمارتیں، چھ دکانیں اور دو کنال اراضی ضبط کر لی ہے۔
بھارت نے آزادی کی حمایت میں سرگرمیوں میں شمولیت کے الزام میں تنظیم پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔