’رُموزِ بے خودی‘ کی ایک نظم بعنوان ’عَرضِ حالِ مُصنِّف بَحُضورِ رَحمۃٌ لِّلعالَمین ﷺ‘ میں علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ بارگاہِ رِسالت ﷺ میں اپنی ایک آرزو اور اِلتجا کچھ یوں پیش کرتے ہیں:
کوکبم را دیدۂ بیدار بخش۔۔
مرقدے در سایۂ دیوار بخش
(ترجمہ: میرے ستارۂ قسمت کو چشمِ بیدار عطا فرما دیں اور مجھے اپنے روضے کی دیوار کے سائے میں ایک قبر عطا فرما دیں۔)
اقبالؒ کی آرزو حِجازِ مُقدّس میں، روضۂ رسول ﷺ کے سایۂ دیوار میں آخری آرام گاہ پانے کی تھی۔ یہ آرزو پوری نہ ہوسکی، کیونکہ تقدیر نے اُن کے لیے لاہور میں بادشاہی مسجد کا سایۂ دیوار چُن رکھا تھا۔
علامہ محمد اقبالؒ ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ء کو وفات پا گئے تو اگلے روز اُنہیں بادشاہی مسجد کے پائین میں سپردِ خاک کردیا گیا۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم نے بھی بادشاہی مسجد کے سایۂ دیوار میں اُن کا مدفن بننے کو روحانی اعتبار سے اس آرزو کی تکمیل ہی کی ایک صورت قرار دیا۔
تقریباً آٹھ برس بعد اسی مقام پر موجودہ پختہ مزار کی تعمیر شروع ہوئی۔ عمارت مکمل ہونے لگی تو ایک اہم مرحلہ اس کی دیواروں کو قُرآنی آیات سے آراستہ کرنے کا آیا۔ طے ہوا کہ مشرقی دیوار پر سُورۃُ الاَنبیاء کی ایک سو پانچویں آیت، شمالی دیوار پر سُورۃُ اِبراہیم کی چوبیسویں آیت کا حصہ، جنوبی دیوار پر سُورۃُ اِبراہیم کی ستائیسویں آیت کا حصہ خَطِّ ثُلث میں اور مغربی دیوار پر سُورۃُ التَّوبہ کی چالیسویں آیت کے الفاظ ’کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الْعُلْیَا‘ خَطِّ کوفی میں رقم کیے جائیں گے۔
اُن دنوں لاہور خطاطی کا ایک بڑا مرکز تھا اور اس شہرِ بے مثال میں خطاطوں کی قریب قریب ساٹھ بیٹھکیں موجود تھیں۔ ان میں ایسے پختہ کار اور کُہنہ مَشق اُستاد بھی بیٹھتے تھے جن کی عمریں اس فن کی مشق میں گزر چکی تھیں۔
ایسے میں مزارِ اقبال کی قُرآنی خطاطی کے لیے انتخاب کسی بڑے اور عمر رسیدہ اُستاد کا ہونا بظاہر زیادہ قرینِ قیاس تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ یہ سعادت ایک ایسے نوجوان کے حصے میں آئی جس کی عمر ابھی بیس برس کے لگ بھگ تھی۔ وہ خود حافظِ قرآن تھا اور چند ہی برس پہلے لاہور آیا تھا۔
اسے قدرت کا فیصلہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ بڑے بڑے کُہنہ مَشق خطاط اُستادوں کی موجودگی میں مزارِ اقبال پر قُرآنی آیات رقم کرنے کی یہ سعادت ایک نوجوان کے حصے میں آئی۔
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔۔
(ترجمہ: یہ سعادت زورِ بازو سے حاصل نہیں ہوتی، جب تک عطا کرنے والا خدا خود عطا نہ فرمائے۔)
آج ۱۳ ستمبر ۲۰۲۶ء کے دن اُسی خوش نصیب خطاط، حافظ محمد یوسف سدیدی، کی چالیسویں برسی ہے۔ وہ ۱۹۸۶ء میں آج ہی کے دن اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔
محمد یوسف کا تعلق ضلع چکوال (سابقہ ضلع جہلم) کے قدیم قصبے بھون سے تھا۔ وہ ایک دینی گھرانے میں ۱۹۲۶ء یا ۱۹۲۷ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھون ہی کے پرائمری سکول میں حاصل کی۔ والدین نے حفظِ قُرآن کے لیے بھون کی ’کمہاراں والی مسجد‘ کے امام حافظ عبدالرحمن کی شاگردی میں دے دیا۔ اُن کی وفات کے بعد بھون ہی کی ’جدھڑاں والی مسجد‘ کے حافظ لال حسین سے حفظ جاری رکھا۔
چودہ پارے حفظ کرنے کے بعد محمد یوسف کھیوڑہ چلے گئے، جہاں حافظ مقصر شاہ کے ادارے میں تقریباً ڈیڑھ سال تک قُرآنِ مجید کے ساتھ عربی اور فارسی کی تعلیم بھی حاصل کی۔
محمد یوسف کو بچپن ہی سے خوش نویسی کا شوق بھی پیدا ہوگیا تھا۔ کھیوڑہ میں حافظ مقصر شاہ کے کمرے میں فارسی زبان کا ایک خوب صورت قطعہ آویزاں تھا۔ محمد یوسف اسے پڑھتے اور اُس کی کتابت کو غور سے دیکھا کرتے تھے۔ ایک روز اُس قطعے کے کاتب کرم دین سے ملاقات ہوئی تو اُن سے کتابت سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے بعد چھٹی کے دن کرم دین کی بیٹھک میں جانے لگے اور یوں خوش نویسی کا بچپن کا شوق باقاعدہ فن سیکھنے کی طرف بڑھنے لگا۔
۱۹۳۹ء میں محمد یوسف لاہور آگئے اور مسجد وزیر خاں میں قاری محمد طفیل سے باقی قُرآنِ مجید حفظ کرکے حفظ کی تکمیل کی۔ یوں محمد یوسف اب حافظ محمد یوسف ہوگئے۔
بعدازاں حافظ محمد یوسف کا روحانی تعلق حضرت سدید الدین معظمی سے قائم ہوا اور وہ اُن کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوئے تو اپنے مرشد کی نسبت سے انہوں نے اپنے نام کے ساتھ ’سدیدی‘ بھی لکھنا شروع کردیا اور یوں وہ حافظ محمد یوسف سدیدی کے نام سے معروف ہوئے۔
لاہور اُس زمانے میں برصغیر میں فنِ خطاطی کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہاں انہیں اپنے عہد کے بڑے خطاطوں کو دیکھنے اور اُن سے سیکھنے کا موقع ملا۔ منشی محمد شریف لدھیانوی سے خَطِّ نَستعلیق میں اِصلاح لینا شروع کی اور عبدالمجید پرویں رقم سے بھی ملاقات اور اِستفادے کا موقع ملا، جنہیں لاہوری طرزِ نَستعلیق کے بڑے اُستادوں میں شمار کیا جاتا تھا۔
لیکن حافظ محمد یوسف سدیدی صرف نَستعلیق تک محدود رہنا نہیں چاہتے تھے۔ ۱۹۴۴ء میں وہ پشاور چلے گئے، جہاں ایم۔ ایم۔ شریف آرٹسٹ سے تقریباً ایک سال تک ڈرائنگ اور مُصوّری کی تربیت حاصل کی۔ اس تربیت نے حروف کے ساتھ نقش، تناسب اور ساخت کو سمجھنے میں بھی اُن کی مدد کی۔
اس کے بعد اُن کے فنی سفر کا ایک اہم پڑاؤ دہلی تھا۔ وہاں اپنے دوست اور معروف خطاط رضی الدین دہلوی کے ساتھ انہوں نے دہلی کی قدیم عمارتوں پر موجود خطاطی کا گہرا مطالعہ کیا۔ دونوں تاریخی عمارتوں پر کندہ قدیم کُتبات اور رَسمُ الخط کے نمونے بڑی محنت سے نقل کرتے۔ شاید اُس وقت اس نوجوان کو اندازہ بھی نہ تھا کہ پرانی عمارتوں کے حروف کو سمجھنے کی یہی مشق کئی برس بعد اُس کے ایک نہایت مشکل فنی کام میں اُس کے کام آنے والی تھی۔
۱۹۴۶ء میں جمعیت علمائے ہند کے زیرِ اہتمام دہلی میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تو حافظ محمد یوسف سدیدی نے اس موقع پر عربی خطاطی کا نہایت خوب صورت نمونہ پیش کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اُن کا کام دیکھا تو اس نوجوان خطاط کی مہارت سے بہت متاثر ہوئے اور داد دیتے ہوئے کہا:"تم نے عربی رَسمُ الخط کا حق ادا کردیا ہے۔" (بحوالہ: محمد خالد جاوید یوسفی، ’استادِ محترم حافظ محمد یوسف سدیدی‘، سہ ماہی ’ادبیات‘، اسلام آباد، جلد ۴، شمارہ ۱۳، ۱۴، ۱۵، ص ۳۴۷)
تقسیمِ ہند کے وقت حافظ محمد یوسف سدیدی دہلی میں تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ لاہور واپس آگئے اور اپنے عہد کے صاحبِ کمال نَستعلیق نگار منشی تاج الدین زریں رقم سے رشتۂ تلمذ قائم کیا۔ یہ تعلق ۱۹۵۵ء میں زریں رقم کی وفات تک قائم رہا۔
۱۹۴۸ء میں اپنے اُستاد کے مشورے پر حافظ محمد یوسف سدیدی روزنامہ ’امروز‘ سے بحیثیت خوش نویس وابستہ ہوگئے۔ ’امروز‘ کی پیشانی پر خَطِّ ثُلث میں لکھی ہوئی خوب صورت لوح بھی انہی کے قلم سے نکلی۔ اُس وقت اخبار کے مدیرِ اعلیٰ معروف ادیب مولانا چراغ حسن حسرت تھے۔ انہوں نے یہ لوح دیکھی تو بہت پسند کی اور حافظ یوسف کو خوب داد دی۔
’امروز‘ سے ۱۹۴۸ء میں قائم ہونے والا یہ تعلق تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔ حافظ یوسف اخبار کی سُرخیاں اور دوسری کتابت کرتے رہے۔ اسی عرصے میں ہزاروں کتابوں اور رسائل کے سرورق بھی اُن کے قلم سے نکلے اور اُن کے فن کو مزید نکھرنے اور اپنی ایک الگ شناخت بنانے کا موقع ملا۔ بالآخر ۱۹۸۱ء میں وہ ’امروز‘ سے ریٹائر ہوگئے۔
حافظ محمد یوسف سدیدی کی اصل اِنفرادیت یہ تھی کہ اُنہوں نے اپنے قلم کو کسی ایک خط تک محدود نہیں رکھا۔ خَطِّ نَستعلیق کے علاوہ خَطِّ ثُلث، نَسخ، رِقاع، مُحقَّق، دِیوانی اور کوفی میں بھی انہیں برابر مہارت حاصل تھی۔
حافظ محمد یوسف نے نَستعلیق اور نَسخ کی باقاعدہ تعلیم مقامی اُستادوں سے حاصل کی، لیکن عربی خطوط سیکھنے کے لیے عالمِ اسلام کے بڑے خطاطوں کے کام کا گہرا مطالعہ کیا۔ خصوصاً تُرک اور عرب خطاطوں کے نمونے اُن کے سامنے رہے اور شیخ عبدالعزیز الرِّفاعی کے قطعات کو بھی اُنہوں نے نمونۂ مشق بنایا۔
یہی وجہ تھی کہ حافظ یوسف سدیدی کا قلم کاغذ سے نکل کر عمارتوں کے پتھروں تک پہنچا۔ مزارِ اقبال کے علاوہ مینارِ پاکستان، مسجدِ شُہداء، داتا دربار، مسلم مسجد، جامع مسجد منصورہ، جامعہ اشرفیہ اور متعدد دوسری عمارتوں اور اداروں میں اُن کی خطاطی کے نمونے سامنے آئے۔ ۱۹۷۴ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر بھی اُنہوں نے سنگِ مرمر کی سِلوں پر خطاطی کی اور کانفرنس کے لیے خطاطی کے خوب صورت نوادر تیار کیے۔
تاہم حافظ سدیدی کی فنی زندگی کا ایک نہایت دلچسپ کام مزارِ قُطب الدین ایبک سے وابستہ ہے۔ ۱۹۷۶ء میں لاہور میں سلطان قُطب الدین ایبک کا مزار تعمیر کرنے کا فیصلہ ہوا تو ماہرین کی خواہش تھی کہ مقبرے پر وہی طرزِ خط استعمال کیا جائے جو دہلی کے قُطب مینار پر موجود ہے۔ مشکل یہ تھی کہ یہ قدیم خط مدت سے متروک تھا اور مُروَّجہ خطوط سے خاصا مختلف تھا۔
یہاں حافظ یوسف کی جوانی کے دہلی والے دن کام آئے۔ برسوں پہلے وہ رضی الدین دہلوی کے ساتھ دہلی کی تاریخی عمارتوں پر موجود قدیم کُتبات کو غور سے دیکھتے اور اُن کی نقلیں اُتارتے رہے تھے۔ اب اسی مطالعے کی بنیاد پر انہیں مزارِ قُطب الدین ایبک کے لیے قدیم طرز کی خطاطی کی مشکل ذمہ داری سونپی گئی اور اُنہوں نے اسے کامیابی سے پورا کیا۔
حافظ یوسف کی جِدّتِ طبع بھی اُن کے فن کا ایک نمایاں وصف تھی۔ اُنہوں نے مختلف خطوط میں صرف پرانے نمونوں کی نقل پر اِکتفا نہیں کیا بلکہ اپنے قلم کی ایک مخصوص شناخت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اُن کے کام کا دائرہ قومی یادگاروں اور مساجد سے لے کر اخبار کی لوح، کتابوں اور رسائل کے سرورق اور مختلف سرکاری و فنی دستاویزات تک پھیلا ہوا تھا۔
کمالِ فن کے باوجود حافظ سدیدی نوآموز خطاطوں کے ساتھ ہمیشہ شفقت سے پیش آتے رہے۔ کوئی شخص اپنا کام اِصلاح کے لیے لاتا تو پہلے اُس میں کوئی خوبی تلاش کرکے اُس کی حوصلہ افزائی کرتے اور پھر اُس کے کمزور پہلوؤں کی اِصلاح کرتے۔ دینی مدارس، مساجد، مقابر و مزارات، فلاحی کاموں، عُلما اور طلبہ کے لیے خطاطی کرتے ہوئے اُجرت نہ لینے کی روایات بھی اُن سے منسوب ہیں۔
روزنامہ ’امروز‘ کے ساتھ حافظ محمد یوسف سدیدی کا تعلق ۱۹۴۸ء سے ۱۹۸۱ء تک قائم رہا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ سعودی عرب چلے گئے اور جدہ میں ایک اشتہاری ادارے سے وابستہ ہوگئے۔ سعودی عرب جانے کے پسِ پشت ملازمت کے ساتھ ایک فنی جستجو بھی تھی۔ وہ حرمین کی مُقدّس فضاؤں میں رہنا اور وہاں عرب اور تُرک خطاطوں کے فن کو مزید قریب سے دیکھنا چاہتے تھے۔
اُن کی طویل فنی خدمات کا سرکاری سطح پر بھی اعتراف ہوا اور ۱۹۸۲ء میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغۂ حُسنِ کارکردگی سے نوازا۔ یہ اعزاز اُن کے صاحبزادے بہار مصطفیٰ نے وصول کیا۔
سعودی عرب میں جولائی ۱۹۸۴ء (اور بعض روایات کے مطابق جولائی ۱۹۸۵ء) میں ایک شدید سڑک حادثے میں چوٹ لگنے کے سبب اُن کا ہاتھ کام کرنے کے قابل نہ رہا اور وہ خطاطی کرنے سے محروم ہوگئے۔ انہیں واپس پاکستان لایا گیا، جہاں وہ ۱۳ ستمبر ۱۹۸۶ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ انہیں لاہور کے ساندہ کلاں کے قبرستان دھوپ سڑی میں سپردِ خاک کیا گیا۔
مزارِ اقبال اور ساندہ کلاں میں اس خطاط کی آخری آرام گاہ کے درمیان کوئی بہت زیادہ فاصلہ نہیں۔ ویسے بھی ان دو شخصیات کا باہمی تعلق فاصلے کا محتاج نہیں۔
آج بھی مزارِ اقبال پر ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے وفود میں سے کسی کی نگاہ جب مزار کی دیواروں پر کندہ قُرآنی آیات پر پڑتی ہے تو جہاں انہیں پڑھنے والے کو ثواب ملتا ہے، وہاں انہیں رقم کرنے والا بھی یقیناً اس ثواب سے محروم نہیں رہتا ہوگا۔ یوں مزارِ اقبال سے پھوٹنے والے فیض کی ایک کرن ساندہ کلاں میں حافظ محمد یوسف سدیدی کی قبر تک بھی پہنچتی رہتی ہے۔
اللہ جَلَّ شَانُہٗ ان دونوں شخصیات کی قبروں پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین!
خدا رحمت کُنَد ایں عاشقانِ پاک طینت را
کہ از بہرِ ثوابِ خلق، خود را وقف گردانند
(ترجمہ: خدا اِن پاک طینت عاشقوں پر رحمت فرماتا ہے جو خلق کی بھلائی اور ثواب کی خاطر اپنے آپ کو وقف کردیتے ہیں۔)
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان