Wednesday, 02 September 2026, 10:07:17 am
 
سلیم احمد: کراچی کا ’بڑا سلیم‘، اردو ادب کے منفرد شاعر و نقاد کی برسی پر خصوصی تحریر
September 01, 2026

جَنوری ۱۹۷۴ء میں عُبیدُاللّٰہ علیم کی ‘چاند چہرہ ستارہ آنکھیں’ کی تقریبِ رُونُمائی کے موقع پر مُنعقدہ مُشاعرے میں دونوں سلیم پہلی مرتبہ عَوامی طَور پر اِکٹھے ہوئے۔ دونوں نے ہی اپنی اپنی غزلیں سُنائیں اور اِتفاق یہ تھا کہ دونوں کے مَقطعوں میں ‘سلیمؔ’ ہی تَخلُّص تھا؛ اَندازِ بَیان بھی یَکساں بے باکانہ اور اَشعار بھی یکساں طاقت وَر اور جِگر دوز!

ایسا لگتا تھا کہ دونوں سلیم ماہر تیر اَندازوں کی طرح اپنی اپنی شِعری تَرکش سے اَشعار کے تیر نکال نکال کر سامعین کے دِلوں کی طرف داغ رہے ہیں۔ اَہلِ کراچی کو یہ مُشاعرہ بہت دیر تک یاد رہا۔

مُشاعرہ کس نے لُوٹا، یہ سوال ایک طرف؛ اب اَہلیانِ کراچی کیلئے بڑا سوال یہ تھا کہ دونوں شُعرا میں تَفریق کیسے کریں؟

دِلچسپ بات یہ ہے کہ اِنہی برسوں میں پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کو بھی ایک جیسے ناموں کا مسئلہ دَرپیش ہوا۔ ۱۹۷۵ء میں نوجوان منظور حسین قومی ٹیم میں شامل ہوئے تو فُل بیک منظور الحسن کی پہلے سے ٹیم میں موجودگی کے سبب ایک کو ‘منظور سینئر’ اور دوسرے کو ‘منظور جونیئر’ کا نام دے دیا گیا۔ ریڈیو اور ٹی وی پر ہاکی کے کمنٹیٹر بھی بِلا تَکلُّف اُنہیں منظور جونیئر اور منظور سینئر کہہ کر میچ کا اَحوال سُناتے۔

اَہلِ کراچی چاہتے تو اپنے دونوں شاعروں کو بھی ‘سلیم سینئر’ اور ‘سلیم جونیئر’ کہہ سکتے تھے، مگر نہ جانے کیوں عَوامی مَحفلوں نے کھیل کے میدان کی اِصطلاح قبول کرنے کے بجائے زیادہ گھریلو اور بے تَکلُّف نام پسند کیے: ‘بڑا سلیم’ اور ‘چھوٹا سلیم’۔

سلیم احمد اَہلِ کراچی کے لیے ‘بڑا سلیم’ تھا۔ شاید اِس لیے کہ بٹوارے کے بعد ہی سے وہ اُسے اپنے شہر کی اَدبی نشستوں اور شِعری مَحفلوں میں دیکھ اور سُن رہے تھے۔ وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ تھا؛ شِعری میدان میں مَعرکے بَرپا کرتا تھا اور اپنی الگ راہ نکالتا تھا۔ چُنانچہ اَہلِ کراچی کی نِگاہ میں وہ پہلے سے موجود، زیادہ تَجربہ کار اور اَدبی مَرتبے میں سینئر سلیم تھا—اِس لیے ‘بڑا سلیم’ تھا۔

دوسری جانب سلیم کوثر سَتّر کی دَہائی میں، ۱۹۷۲ء میں، کبیروالا سے کراچی آئے۔ کراچی کے مَنچ پر اُن کی آمد تاخیر سے ہوئی اور چُونکہ وہ سلیم احمد سے عُمر میں بیس برس چھوٹے اور کراچی کی حَد تک شُہرت میں بھی قَدرے پیچھے تھے، اِس لیے اُنہیں ‘چھوٹا سلیم’ کہا گیا۔

بڑے سلیم، یعنی سلیم احمد، تو اُن دنوں مُشاعروں میں کم کم دِکھائی دیتے تھے، لیکن چھوٹے سلیم نے کراچی پہنچنے کے بعد نہ صرف یہاں کے ہر مُشاعرے میں شِرکت کی بلکہ کئی ایک مُشاعروں کو تو اُنہوں نے حقیقی مَعنوں میں ‘لُوٹا’ بھی۔

یہ نام بِظاہر بے تَکلُّف بلکہ کسی قَدر گُستاخانہ مَعلوم ہوتے ہیں، لیکن کراچی کی اَدبی فَضا میں اُن کے اَندر تَحقیر نہیں، اَپنائیت پوشیدہ تھی۔ ‘بڑا’ عُمر، تَجربے اور پہلے سے قائم اَدبی مَرتبے کی علامت تھا اور ‘چھوٹا’ اُس نِسبتاً نوجوان شاعر کی شناخت، جو ابھی ابھی شہر میں آیا تھا مگر بہت تیزی سے اُس کی شِعری مَحفلوں پر چھاتا جارہا تھا۔

چھوٹا سلیم ہمیشہ بڑے سلیم کیلئے رَطبُ اللِّسان رہا ہے اور اب تک یہی کہتا ہے کہ ‘سلیم بھائی مجھ سے بہت مَحبّت کرتے تھے’۔

یکم ستمبر ۱۹۸۳ء کو ‘بڑا سلیم’، چھوٹے سلیم اور اپنے دیگر چاہنے والوں کو داغِ مُفارقت دے گیا۔ ‘چھوٹا سلیم’ علیل ہے اور اب وہ کراچی کا اِکلوتا سلیم ہے۔

آج کراچی والوں کے ‘بڑے سلیم’ اور اَدبی دنیا کے بھی ایک بڑے سلیم، سلیم احمد کی ۴۳ ویں بَرسی ہے۔

کراچی کے اِس ‘بڑے سلیم’ کا اَصلی نام سلیم احمد اور تَخلُّص ‘سلیمؔ’ تھا۔ وہ سیّد شرافت علی کے صاحبزادے تھے اور یکم دسمبر ۱۹۲۷ء کو ضلع بارہ بنکی کے قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے میں حاصل کی اور وہیں سے میٹرک کرنے کے بعد میرٹھ کالج میں داخل ہوگئے۔

میرٹھ کا زمانہ سلیم احمد کی فِکری اور اَدبی زندگی میں بڑی اَہمیت رکھتا ہے۔ وہاں اُنہیں پروفیسر کرّار حسین، محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی جیسی شخصیات کی رَفاقت نصیب ہوئی۔ بالخصوص محمد حسن عسکری کے اَفکار نے اُن کے ذہن اور تنقیدی شُعور پر گہرا اَثر ڈالا۔ سلیم احمد نے ۱۹۴۴ء ہی میں شاعری شروع کردی تھی، گویا ہجرت سے پہلے ہی اُن کے اندر کا شاعر بیدار ہوچکا تھا۔

سلیم احمد نومبر ۱۹۴۷ء میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور اپنی باقی تعلیم یہیں مکمل کی۔ ۱۹۵۰ء میں وہ ریڈیو پاکستان سے مُنسلک ہوئے۔ یہ وابستگی محض سرکاری مُلازمت تک محدود نہیں رہی؛ ریڈیو اُن کی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بڑا وسیلہ بن گیا۔ اُنہوں نے ریڈیو کیلئے متعدد ڈرامے لکھے، پروگرام ترتیب دیے اور اَدبی و فِکری نشریات میں حِصّہ لیا۔

سلیم احمد بعدازاں وفاقی وزارتِ اطلاعات میں بھی کچھ عرصہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کے مُشیر کی حیثیت سے مامور رہے۔ ریڈیو کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے پاکستان ٹیلی وژن اور اسٹیج کیلئے بھی ڈرامے تحریر کیے۔ نسیم حجازی کے معروف ناول ‘آخری چٹان’ کی ڈرامائی تشکیل بھی اُنہی کے نمایاں کاموں میں شامل ہے۔

سلیم احمد کا فَنّی سفر صرف ریڈیو اور ٹیلی وژن تک محدود نہیں رہا۔ اُنہوں نے فلموں کی کہانیاں، مکالمے اور منظرنامے بھی لکھے۔ پاکستان کی پہلی جاسوسی فلم کہی جانے والی ‘راز کی کہانی’ کی کہانی بھی اُنہی کے قلم سے نکلی اور اِس پر اُنہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ عطا کیا گیا۔

یوں ‘بڑا سلیم’ شاعری اور تنقید کے ساتھ ساتھ ریڈیو، ٹیلی وژن، اسٹیج اور فلم—چاروں میدانوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منواتا رہا۔

سلیم احمد نے صحافت میں بھی اپنے قلم کے جوہر دکھائے۔ ۱۹۶۶ء میں اُنہوں نے روزنامہ ‘حریت’ کراچی میں ‘مجھے کہنا ہے کچھ’ کے عنوان سے کالم نگاری شروع کی۔ روزنامہ ‘جسارت’ میں ‘رُوبرو’ کے عنوان سے کالم لکھے اور ہفت روزہ ‘زندگی’ میں کبھی اپنے نام سے اور کبھی مختلف قلمی ناموں سے سیاسی، سماجی اور فِکری موضوعات پر اظہارِ خیال کرتے رہے۔ اُن کے کالموں میں بھی وہی بے باکی، راست گوئی اور فِکری کاٹ موجود تھی جو اُن کے تنقیدی مضامین کی پہچان بنی۔

سلیم احمد بیک وقت شاعر، نقّاد، ڈراما نگار، فلم نویس اور کالم نگار تھے، لیکن اُن کی اَصل اَدبی شناخت شاعری اور تنقید سے قائم ہوئی۔ اُن کے شعری مجموعوں میں ‘بیاض’، ‘اکائی’، ‘چراغِ نیم شب’ اور ‘مشرق’ جبکہ تنقیدی کتابوں میں ‘اَدبی اقدار’، ‘نئی نظم اور پورا آدمی’، ‘غالب کون؟’، ‘اَدھوری جدیدیت’، ‘اقبال: ایک شاعر’ اور ‘محمد حسن عسکری: آدمی یا انسان؟’ نمایاں ہیں۔

دستیاب سوانحی حوالوں کے مطابق سلیم احمد اپنی زندگی کے آخری برسوں تک ریڈیو، ٹیلی وژن، کالم نگاری، شاعری اور تنقید کے میدانوں میں سرگرم رہے۔ یکم ستمبر ۱۹۸۳ء کو صرف پچپن برس کی عمر میں کراچی میں اُن کا اِنتقال ہوگیا اور وہ پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

سلیم احمد کا شعری مجموعہ ‘چراغِ نیم شب’ ۱۹۸۵ء میں اور ‘مشرق’ ۱۹۸۹ء میں، اُن کی وفات کے بعد شائع ہوا۔

سلیم احمد کی شاعری اپنی مَخصوص آواز، فِکری گہرائی اور لِسانی جُرأت کے باعث اپنے عہد کے دوسرے شاعروں سے الگ پہچانی جاتی ہے۔ اُنہوں نے کلاسیکی غزل سے اپنا رِشتہ منقطع نہیں کیا، بلکہ اِسی روایت کے اندر رہتے ہوئے اِظہار کی نئی راہیں تلاش کیں۔

جدید اِنسان کی بے چینی، ذات کا اَکیلا پَن، جِسم اور رُوح کا باہمی تَعلُّق، مُحبّت کے پیچیدہ تَجربات اور مشرق و مغرب کا تہذیبی تَصادم سلیم احمد کی شاعری میں بار بار نئے زاویوں سے سامنے آتا ہے۔

سلیم احمد کے یہاں شاعری محض جذبات کے بے ساختہ اظہار کا نام نہیں؛ اُن کے اَشعار میں خیال اور اِحساس ایک دوسرے میں اِس طرح جذب ہوتے ہیں کہ فِکری بات بھی جیتی جاگتی کیفیّت بن جاتی ہے۔

سلیم احمد نے روزمَرّہ کے عام اور مانوس اَلفاظ، بلکہ اُن لفظوں کو بھی شاعرانہ وَقار بخشا جنہیں اُس زمانے میں شاعری کیلئے موزوں نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اُن کے ہاں خیال کی گہرائی زبان کو بوجھل نہیں بناتی؛ سادہ لفظوں کے اندر مَعنی کی کئی تَہیں آہستہ آہستہ کُھلتی چلی جاتی ہیں۔

‘بیاض’ میں زبان کے رائج سانچوں کو توڑنے اور شاعری کیلئے نئے اِمکانات پیدا کرنے کی کوشش دِکھائی دیتی ہے۔ ‘اکائی’ میں جِسم اور رُوح ایک دوسرے کی ضِد نہیں رہتے بلکہ انسانی وُجود کی تَکمیل کرتے نظر آتے ہیں۔ ‘مشرق’ میں مغربی تہذیب کے مقابل مشرقی اِنسان کی شِکست، بے یقینی اور وُجودی کَرب نمایاں ہے، جبکہ ‘چراغِ نیم شب’ میں سلیم احمد کا فِکری اور شاعرانہ شُعور زیادہ پُختہ صُورت میں سامنے آتا ہے۔

یوں سلیم احمد کی شاعری میں سادگی اور مَعنوی گہرائی، نَغمگی اور ڈرامائیت، نَرم اِحساس اور تیز فِکری کاٹ ایک ساتھ موجود ہیں۔ اُن کا شعر صرف کانوں کو بھلا نہیں لگتا، بلکہ ذہن میں اُتر کر دیر تک قاری سے مُکالمہ کرتا رہتا ہے۔

سلیم احمد کی یہ غزل دیکھیے:

جانے کِسی نے کیا کہا تیز ہَوا کے شور میں

مُجھ سے سُنا نہیں گیا تیز ہَوا کے شور میں

مَیں بھی تُجھے نہ سُن سکا، تُو بھی مُجھے نہ سُن سکا

تُجھ سے ہُوا مُکالمہ تیز ہَوا کے شور میں۔۔۔ ۔

کَشتیوں والے بے خَبر بڑھتے رہے بَھنور کی سَمت

اور مَیں چیختا رہا تیز ہَوا کے شور میں۔۔۔۔۔۔۔

میری زَبانِ آتِشیں لَو تھی مِرے چَراغ کی

میرا چَراغ چُپ نہ تھا تیز ہَوا کے شور میں

جیسے خُروشِ بَحر میں شورِ پَرند ڈوب جائے

ڈوب گئی مِری صَدا تیز ہَوا کے شور میں

نَوحہ گَرانِ شامِ غَم، تُم نے سُنا نہیں مگر

کیسا عَجیب دَرد تھا تیز ہَوا کے شور میں

میرے مَکاں کی چھت پہ تھے طائِرِ شب ڈرے ڈرے

جیسے پَیامِ مَرگ تھا ، تیز ہَوا کے شور میں۔۔۔۔۔۔۔

مِنّتِ گوشِ بے حِسّاں کون اُٹھائے اب سلیمؔ

نَوحۂ غَم مِلا دیا، تیز ہَوا کے شور میں۔۔۔۔۔۔

سلیم احمد نے تنقید کو محض اَدبی خوبیوں اور خامیوں کی نِشان دِہی تک محدود نہیں رکھا۔ اُن کے نزدیک کسی تَخلیق کو سمجھنے کیلئے اُس کے پس منظر میں موجود اِنسانی تَجربے، تہذیبی روایت، مذہبی شُعور اور عَصری صُورتِ حال کو سمجھنا بھی ضروری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تنقید میں اَدب کے ساتھ ساتھ اِنسان، تہذیب، روایت، جدیدیت اور زندگی کے بنیادی سوالات بھی زیرِ بحث آتے ہیں۔ وہ کسی مُسلّمہ رائے کو صرف اِس لیے قبول نہیں کرتے تھے کہ بڑے بڑے نام اُس کی تائید کرچکے ہیں؛ ہر اَدبی مسئلے کو اپنے مطالعے، تَجربے اور فِکری میزان پر پرکھتے تھے۔

محمد حسن عسکری سے سلیم احمد نے گہرا فِکری اَثر قبول کیا، مگر اُنہوں نے اپنے اُستاد کے خیالات کو محض دُہرایا نہیں۔ عسکری کے اُٹھائے ہوئے سوالات سلیم احمد کی تحریروں میں اُن کے اپنے مزاج، حِسّیت اور زاویۂ نِگاہ کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ عسکری صاحب کی نثر میں عِلمی اِنضباط اور اِستدلال کی شان نمایاں تھی، جبکہ سلیم احمد اُسی عِلمی مسئلے کو ایک زندہ اِنسانی تَجربے میں تبدیل کردیتے تھے۔ اُن کی تحریر پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نقّاد کسی دُور کے مَنبر سے فیصلہ نہیں سُنا رہا، بلکہ قاری کے سامنے بیٹھا اُس سے بات کررہا ہے۔

سلیم احمد کی تنقیدی نثر میں مکالمے کی رَوانی، دلیل کی مضبوطی، زبان کی شُگفتگی اور طنز کی تیزی ایک ساتھ مِلتی ہے۔ وہ پیچیدہ خیال کو عام فہم بنانے کا ہُنر جانتے تھے؛ مُجرّد مسئلہ اُن کی تحریر میں ٹھوس اور دُور کی بات قریب آجاتی تھی۔ غالب، اقبال، نئی نظم، جدیدیت اور محمد حسن عسکری پر لکھتے ہوئے اُنہوں نے کئی مَقبول اور مُسلّمہ خیالات کو چیلنج کیا۔ اُن کی بعض آرا سے شدید اِختلاف کیا گیا، لیکن اِس اَمر سے اِنکار ممکن نہیں کہ اُنہوں نے اُردو تنقید کو نئے سوالات، مختلف زاویے، تازہ فِکری پیمانے اور اپنی تہذیبی روایت پر اعتماد کے ساتھ سوچنے کا حَوصلہ عطا کیا۔

سلیم احمد کو ہم سے بچھڑے چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، مگر اُن کی شاعری، تنقید، ڈراموں اور فِکری مکالموں کی روشنی آج بھی قائم ہے۔

‘بڑا سلیم’ کبھی دو ہم نام شاعروں میں تَفریق کیلئے اختیار کیا گیا ، سلیم احمد ایک بے تَکلُّف نام تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ نام اُن کے بلند اَدبی قد، فِکری وُسعت اور تخلیقی عظمت کا اِستعارہ بن گیا۔

پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک سلیم احمد آج بھی کراچی کا ‘بڑا سلیم’ ہے۔

ریڈیو پاکستان اپنے سابق کارکن، اپنے عہد کے ایک بڑے شاعر، اُردو کے ایک جَیّد نقّاد، ممتاز ڈراما نگار اور مُنفرد اِنسان سلیم احمد کو اُن کی تینتالیسویں بَرسی پر خراجِ عَقیدت پیش کرتا ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان