Saturday, 13 April 2024, 01:32:57 am
وزیراعظم کی مسائل کےحل کیلئےحزب اختلاف کومیثاق مفاہمت کی پیشکش
March 03, 2024

منتخب وزیراعظم محمد شہبازشریف نے ملک کو درپیش موجودہ مسائل کے موثر حل اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے حزب اختلاف کو میثاق مفاہمت کی پیشکش کی ہے۔

انہوں نے اتوار کے روز قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر کے دوران واضح طور پر کہا کہ ان کی کوئی ذاتی انا نہیں اور دوسرے فریق کو بھی پاکستان کی بہتری کیلئے اسی اصول پر کاربند ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل انہوں نے ملک کے فائدے کیلئے میثاق معیشت کی تجویز دی تھی۔

شہبازشریف نے کہا کہ عوام نے عام انتخابات میں منقسم مینڈیٹ دیا اور جن لوگوں کو انتخابی نتائج پر تحفظات ہیں انہیں مناسب فورمز سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے اور اجتماعی فیصلوں سے اسے خودانحصاری کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کی ترجیحات پر روشنی ڈالتے ہوئے منتخب وزیراعظم نے مسائل کے حل کیلئے مختلف شعبوں میں منصوبوں اور اصلاحات کا اعلان کیا۔اقتصادی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک اس وقت اسی ہزار ارب روپے کے اندرونی اور بیرونی قرضوں کا مقروض ہے اور یہ صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔منتخب وزیراعظم نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران بارہ ہزار تین سو ارب روپے کا ریونیو متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت وسائل کی صوبوں میں تقسیم کے بعد وفاقی حکومت کے پاس سات ہزار تین سو ارب روپے ہونگے۔انہوں نے کہا کہ سود کی ادائیگی کیلئے آٹھ ہزار ارب روپے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت آمدن میں اضافے کیلئے تمام ممکنہ کوششیں کرے گی جس سے مہنگائی میں کمی ہوگی اور ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔شہباز شریف نے کہا فرسودہ قوانین کو ختم کر دیا جائے گا تاکہ ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول پیداہو۔انہوں نے کہا کہ دوست ملکوں کے کاروباری افراد کو ملک میں ویزے کے بغیر داخلے کی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے بینکوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کیلئے نوجوانوں کو قرضے دیں۔شہبازشریف نے کہا کہ تجارتی راہداریاں کھولی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کو چین کے تعاون سے آگے بڑھایا جائے گا جو پاکستان کا آزمودہ اور قابل اعتماد دوست ہے۔بجلی کے زائد ٹیرف پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں گردشی قرضہ دو ہزار تین سو ارب روپے تک پہنچ گیاہے۔نئے منتخب وزیراعظم نے کہا کہ وہ بجلی چوری اور ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی کی خود نگرانی کریںگے۔انہوں نے توانائی کی کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کا نیٹ ورک تشکیل دیں تاکہ صارفین کو سستی بجلی فراہم ہو۔زرعی شعبے میں حکومت کی ترجیحات کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نے کاشتکاروں کو کھادوں پر براہ راست اعانت فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت شمسی ٹیوب ویل پروگرام شروع کرے گی اور کاشتکاروں کو اعلیٰ معیار کا درآمد شدہ بیج پہلی دفعہ مفت فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔شہبازشریف نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک موثرنظام قائم کرنا میری حکومت کی ایک اور ترجیح ہو گی۔انہوں نے کہا کہ پانچ لاکھ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، مشین کی معلومات اور آئی ٹی سے متعلق دوسرے شعبوں میں خصوصی تربیت دی جائے گی۔منتخب وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے ذریعے ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا پختہ عزم ظاہر کیا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کا مسئلہ علاقے کے عمائدین کے ساتھ صلاح مشورے سے حل کر لیا جائے گا۔