وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے نظام کو ہنگامی ردعمل کی بجائے پیشگی منصوبہ بندی، ٹیکنالوجی کی مدد سے پیش گوئی، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ بنیادی ڈھانچے اور جواب دہی پر مبنی بحالی کے نظام پر منتقل کرنے پر زور دیا ہے۔
وہ اسلام آباد میں ملک بھر میں مون سون کی صورتحال، قدرتی آفات سے نمٹنے، بحالی کے حوالے سے دیگر ضروریات اور مستقبل میں موسمیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلی سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔
احسن اقبال نے قومی ہنگامی امدادی ادارے، صوبائی حکام اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ مون سون دو ہزار ستائیس کیلئے تیاریاں فوری طور پر شروع کریں۔
کمیٹی نے پلاسٹک کے کچرے کے حوالے سے بھی غور کیا جو شہری سیلاب کی ایک بڑی وجہ ہے۔
وفاقی وزیر نے پولی تھین بیگز پر پابندیوں پر موثر عمل درآمد کے ساتھ ملک گیر آگاہی اور رویوں میں تبدیلی کی مہم چلانے پر زور دیا۔