Friday, 19 April 2024, 11:09:38 pm
مقبوضہ کشمیر : کنن پوشپورہ میں اجتماعی بے حرمتی کے ہولناک واقعے کے 33 برس مکمل ، متاثرین کی یاد میں تقریبات کا انعقاد
February 23, 2024

فائل فوٹو

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں آج کنن پوشپورہ میں اجتماعی بے حرمتی کے ہولناک واقعے کے 33 برس مکمل ہونے پر متاثرین کی یاد میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

اس موقع پر کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارتی فوجیوں نے آج ہی کے دن1991 ء میں سوسے زائد کشمیری خواتین اور کمسن بچیوں کواجتماعیبے حرمتی کا نشانہ بنایا تھا۔

رپورٹ میں اس بات پر افسوس ظاہرکیاگیا کہ اس گھنائونے جرم میں ملوث افراد کوانصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایسے المناک واقعات کی بنیادی وجہ بھارتی فوجیوں کو آرمڈ فورسز سپیشل پاورزایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت حاصل استثنیٰ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بھات کی مسلسل ریاستی دہشت گردی سے تقریباً23 ہزار خواتین بیوہ ہوئیں جبکہ اقوام متحدہ کے تحت تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لئے آواز اٹھانے پر کالے قوانین کے تحت تقریباً36 خواتین کو غیر قانونی حراست کا سامناہے۔

ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند سینئر رہنما شبیر احمد شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے اور ان کا استحصال اور انھیںحراساں کرنے کیلئے خواتین کی اجتماعی بے حرمتی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے 1991 ء میں آج کے دن بھارتی فوجیوں کی جانب سے کنن پوشپورہ اجتماعی بے حرمتی کے ہولناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ بھارت کشمیری خواتین کی اجتماعیبے حرمتیکو ریاستی دہشت گردی کے آلے کے طورپر استعمال کررہاہے۔

اسلام آباد میں مقررین نے ایک سیمینار میں کنن پوشپورہ اجتماعی بے حرمتی جیسے واقعات میں بھارتی فوجیوں کا تحفظ کرنے میں بھارتی حکومت اور اس کی عدلیہ کے کردار کی مذمت کی۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرانے کیلئے کردار ادا کرے۔