بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بوائز ہاسٹل کی پانچ منزلہ عمارت منہدم ہونے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوگئے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق حادثے کے وقت عمارت میں 24 سے 48 افراد موجود تھے، جبکہ متاثرہ عمارت میں رہائش پذیر افراد کی اکثریت طلبہ پر مشتمل تھی۔
حادثے پر اپوزیشن جماعت کاکروچ جنتا پارٹی نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ غریب بھارتی طلبہ ایک بار پھر حکومتی غفلت کا شکار ہوئے ہیں۔
پارٹی نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی یونیورسٹی میں اپنی تقریر کے دوران طلبہ کو دماغی نکسل قرار دینے پر تو توجہ دی، تاہم بوسیدہ عمارت کی حالت کو نظرانداز کیا۔
ماہرین کے مطابق بھارت میں نوجوانوں کو درپیش مسائل، بالخصوص تعلیم اور روزگار کے مسائل، مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج بھی جاری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے بڑھتے ہوئے مسائل اور احتجاج مستقبل میں مودی حکومت کے لیے بڑا سیاسی چیلنج بن سکتے ہیں۔