Sunday, 13 September 2026, 09:15:04 am
 

مزید خبریں

 
میجر راجہ عزیز بھٹی شہید(نشانِ حیدر)، جرات و شجاعت کی وہ داستان جو آج بھی زندہ ہے
September 12, 2026

میجر راجہ عزیز بھٹی شہید(نشانِ حیدر) جرات و شجاعت کی وہ داستان ہیں جو آج بھی زندہ ہے۔

دفاعِ وطن کی تاریخ ان لازوال قربانیوں سے عبارت ہے، جہاں پاکستان کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانیں نچھاور کرکے آنے والی نسلوں کے لیے آزادی کی راہ محفوظ بنائی۔

ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران جب بزدل دشمن نے پاکستان کو سرپرائز دینے کی ناکام کوشش کی تو وہ خود سرپرائز ہوگیا۔

1965 کی جنگ کے دوران میجر راجہ عزیز بھٹی واہگہ سیکٹر کے علاقے برکی میں بطور کمپنی کمانڈر تعینات تھے۔

آپ نے بی آر بی نہر پر دشمن کے حملے کو روکنے کے لیے اپنے دفاع کو منظم کیا اور خود کو اولین دفاعی لائن کا حصہ بنایا۔

میجر راجہ عزیز بھٹی نے عزم و ہمت اور ولولے کے ساتھ مسلسل پانچ دن، 6 سے 10 ستمبر تک، دشمن کے متعدد حملوں کو پسپا کیا۔

دشمن کو ان حملوں میں بکتر بند گاڑیوں اور بھاری توپ خانے کی مدد حاصل تھی۔

اس معرکے کے دوران آپ نے دفاع کے ساتھ ساتھ دشمن پر حملہ بھی کیا اور بی آر بی نہر عبور کرنے والے واحد پل پر قابض دشمن کو پیچھے دھکیل دیا۔

12 ستمبر کو میجر راجہ عزیز بھٹی نے دشمن کے بڑھتے ہوئے بکتر بند اور پیدل دستوں پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں دشمن کے دو ٹینک تباہ ہوگئے۔

آپ نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر مسلسل دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھی اور اسے بھاری جانی و مالی نقصان بھی پہنچایا۔

اسی دوران دشمن کے ایک ٹینک کا گولہ لگنے سے میجر راجہ عزیز بھٹی نے جامِ شہادت نوش کیا۔

میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کی اس لازوال قربانی کی بدولت دشمن لاہور کی جانب پیش قدمی نہ کرسکا۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دفاعِ وطن کا مرحلہ آیا، پاک فوج کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانیں قربان کرکے سبز ہلالی پرچم سربلند رکھا۔