بھارت میں برکس سربراہ اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی نااہل مودی حکومت کی اقتصادی ناکامیوں پر شدید تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔
بھارتی تجزیہ کار اجے شکلا نے ایک بیان میں مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ماضی میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاسوں سے عملی طور پر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ مجموعی قومی پیداوار کی سست شرح نمو اور بے روزگاری میں اضافے کے باعث شہری پانچ سے آٹھ ہزار روپے ماہانہ اجرت کی ملازمتوں کے لیے قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔
ادھر نئی دلی میں مقامی حکام نے غربت کو غیر ملکی شخصیات کی نظروں سے چھپانے کی ناکام کوشش کے طور پر کچی آبادیوں کے آگے عارضی قناتیں لگا دی ہیں۔
دلی کی کچی آبادیوں کے رہائشیوں نے شہر کی انتظامیہ کے اس اقدام پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پردے لگانے سے بڑے پیمانے پر پھیلی غربت کی زمینی حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا۔
نئی دلی کے شہریوں کو سربراہ اجلاس کیلئے بڑے پیمانے پر سڑکوں کی بندش اور ٹریفک جام سے بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔