مودی حکومت کے دور میں بھارت میں روزگار کے بحران نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مستقبل کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق ملازمت کی تلاش میں بھارتی نوجوان ابھی گپتا درجنوں انٹرویوز کے باوجود تاحال روزگار حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔
ابھی گپتا کا کہنا ہے کہ روزانہ صبح سے شام تک ان کا تمام وقت صرف کام کی تلاش میں گزرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تین سالہ تکنیکی ڈگری مکمل کرنے کے باوجود مناسب روزگار کا حصول مشکل ہو چکا ہے۔
ابھی گپتا کے مطابق شعبہ ٹیکنالوجی میں طویل عرصے تک ملازمت سے دوری ڈگری کی عملی قدر و قیمت کو متاثر کرتی ہے۔
معروف لیبر اکنامسٹ روزا ابراہم کے مطابق مالی بوجھ کے تحت مجبوری میں کیا گیا کام انسان کا وقار اور مقصدِ حیات چھین لیتا ہے۔
بھارت میں بڑھتی بے روزگاری نے بی جے پی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور نوجوانوں کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔