Thursday, 30 May 2024, 03:35:12 pm
مودی حکومت کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد پے در پے مذموم اقدامات کر رہی ہے
April 20, 2024

نریندر مودی کی زیر قیادت ہندوتوا بھارتی حکومت اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے پے در پے مذموم اقدامات کر رہی ہے۔

مودی حکومت نے اپنے تازہ ترین اقدام میں بھارتی پنجاب کے ایک رہائشی کو مقبوضہ علاقے میں پارلیمانی الیکشن لڑنے کی اجازت دی ہے۔

بلدیو کمار اگست 2019 کے بعد مقبوضہ علاقے میں بھارتی پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے والا پہلا بھارتی شہری ہے۔

مودی حکومت نے اگست 2019کے بعد لاکھوں بھارتی ہندوں کو مقبوضہ علاقے کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹس فراہم کیے ہیں۔ ہندو توا بی جے پی حکومت کشمیریوں سے انکی زمینیں ، مکانات اور دیگر املاک چھین کر بھارتی ہندوں کو دے رہی ہے جسکا واحد مقصد علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کوا قلیت میں بدلنا ہے۔

ادھر بھارتی فوجیوں نے ، جنہیں کالے قوانین کے تحت بے پناہ ختیارات حاصل ہیںمقبوضہ کشمیر میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔

فوجیوں نے بے گناہ کشمیریوں کو ہراساں کرنے کے علاوہ اب تک سینکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کر کے مختلف حراستی مراکز میں بند کر دیا ہے جہاں مختلف طریقوں سے ان کی تذلیل کی جارہی ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری مظالم پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت غیر قانونی بھارتی قبضے کو چیلنج کرنے پر کشمیریوں کو بدترین انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنارہی ہے۔

دریں اثناء پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ05 اگست 2019 کے بعد سے مقبوضہ جموں وکشمیر کو ایک جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔