Sunday, 21 July 2024, 09:40:00 pm
حریت کانفرنس کا قابض بھارتی فورسز کی طرف سے جاری قتل وغارت پرشدید تشویش کا اظہار
June 13, 2024

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے قابض بھارتی فورسز کی طرف سے علاقے میں جاری قتل و غارت گری اور بلاجواز گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوج اور کشمیر کے خلاف پالیسیاں تنازع کو حل کرنے میں ناکام ہوگئی ہیں اور کشمیری آزادی کیلئے مرمٹنے کیلئے تیار ہیں لیکن وہ بھارت کے آگے کبھی نہیں جھکیں گے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو نہتے کشمیریوں کے قتل عام سے روکے۔

جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے ایک بیان میں بھارت پر زور دیاہے کہ وہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کے پرامن اور مستقل حل کے لیے ماحول کو سازگار بنائے۔

ادھر بھارتی فورسز نے جموں خطے میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے، قابض اہلکاروں نے متعدد افراد کو گرفتار کیا جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔

بھارتی فوجیوں، پیرا ملٹری اور پولیس اہلکاروں نے مشترکہ آپریشن میں ڈوڈہ، کٹھوعہ، ریاسی، راجوری، پونچھ اور سانبہ اضلاع کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں۔

تاہم ضلع ڈوڈہ میں ایک حملے میں مذاحمت کے دوران بھارتی پولیس کانسٹیبل شدید زخمی ہو گیا۔ بی جے پی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی جائیدادوں کی ضبطی کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ضلع اسلام آباد کے علاقے گندول میں ریاض احمد بٹ نامی شخص کا دو منزلہ مکان غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت ضبط کرلیا۔

دریں اثنا، بھارتی فوج اور پولیس نے ہندو امرناتھ یاترا کی سیکیورٹی کے نام پر مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک فوجی چھاونی میں تبدیل کر دیا ہے،جس سے مقامی لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔

جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے بھارتی حکومت سے تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ مسائل فوجی کارروائی سے ہرگز حل نہیں کیے جا سکتے۔

بھارتی حکومت نے تمام نجی ٹیلی ویڑن چینلز کو ایک حکمنامہ جاری کیا ہے جس میں انہیں بھارت کے تازہ ترین سیاسی نقشے کو استعمال کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے۔نقشے میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ جموں وکشمیر اور لداخ بھی شامل ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں نے بھارتی حکومت کے اس اقدام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔