Monday, 04 March 2024, 03:16:45 am
جموں و کشمیر بھارت کا حصہ نہیں اور نہ کبھی ہوگا،پاکستان
September 24, 2023

پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے واضح طور پر کہا ہے کہ جموں وکشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے اور نہ کبھی ہو گا۔

انہوں نے یہ بات جنرل اسمبلی کے 78 ویں اجلاس کے موقع پر اعلی سطح کے عمومی مذاکرے کے ہفتے کے دوران بھارت کوجواب دینے کا حق استعمال کرتے ہوئے کہی۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ جموں وکشمیر کے تنازعے کاحتمی فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے ہوگاجسے بھارت نے بھی تسلیم کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا بھارت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل پچیس کے تحت ان قراردادوں پر عملدرآمد کرے لیکن وہ مسلسل دھوکے بازی اور طاقت کے استعمال سے ایسا کرنے سے انکاری ہے۔

مظلوم کشمیریوںکی جدوجہد آزادی کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے صائمہ سلیم نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیرملکی قبضے کے خلاف کشمیریوں کی مزاحمت جائز اور قانونی ہے۔صائمہ سلیم نے کہا کہ انسانی حقوق کونسل کے بارہ سے زائد خصوصی نمائندوں نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاہم بھارت انہیں مقبوضہ علاقے تک رسائی دینے سے مسلسل انکار کر رہا ہے۔صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان کے پاس بھارت کی طرف سے تحریک طالبان پاکستان کی پشت پناہی کے ٹھوس شواہدموجود ہیں جس نے پاکستان کے شہریوں اور عسکری اہداف پر کئی بار دہشت گردی کے حملے کئے ہیں۔بھارت میں اقلیتوں کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے صائمہ سلیم نے کہا کہ بی جے پی ، آرایس ایس حکومت نے بیس کروڑ مسلمانوں، بیس لاکھ عیسائیوں، لاکھوں دلتوں اور دیگر نچلی ذات کے ہندوؤں کے خلاف دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ عیسائیوں پر پانچ سو پچیس حملے کئے جا چکے ہیں جن میں شمال مشرقی بھارت میں ہندو قبائل کی طرف سے عیسائیوں پر کیا جانے والا حالیہ غیرانسانی حملہ بھی شامل ہے۔2018ء سے اب تک ایک لاکھ سے زائد دلتوں کے خلاف جرائم کے مقدمات درج کئے جا چکے ہیں۔ 1984ء اور اس کے بعد گولڈن ٹیمپل میں منظم فسادات کے ذریعے ہزاروں سکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔