Saturday, 13 April 2024, 02:53:53 am
حریت کانفرنس کا تنازعہ جموں وکشمیر کے فوری اورمنصفانہ حل کے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ
February 27, 2024

کل جماعتی حریت کانفرنس نے تنازعہ جموں وکشمیر کے فوری اورمنصفانہ حل کے اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیاہے۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ مداخلت کریں اور مقبوضہ جموں وکشمیر میں فوجی جارحیت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اورجبری گرفتاریوں کی پالیسی کو ترک کرنے کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔

حریت کانفرنس نے بھارتی حکومت سے مقبوضہ جموں و کشمیر سے فوجی انخلائ، سیاسی قیدیوں کی غیر مشروط رہائی، کالے قوانین کی منسوخی اور کشمیری عوام کے شہری اور سیاسی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھرپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سرینگر میں ایک بیان میں مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی جانب سے پاسپورٹ کو اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور رپ استعمال کرنے کی مذمت کی ہے۔

محبوبہ مفتی کا یہ بیان گزشتہ روز برطانوی ماہر تعلیم نتاشا کول کو بنگلورو کے ہوائی اڈے سے ملک بدر کیے جانے کے بعد سامنے آیاہے۔

ایک اور پیش رفت میں خلیجی ممالک نے بالی ووڈکی فلم''آرٹیکل 370''پر پابندی عائد کر دی ہے جسے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

فلم پر پابندی سے اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ متنازعہ علاقے کشمیر کے حوالے سے بی جے پی کے پروپیگنڈے پر پائے جانے والے خدشات کی عکاسی ہوتی ہے۔فلم میں جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال کو بالکل نظر انداز کیا گیاہے۔

ادھر مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہائی کورٹ نے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت پانچ کشمیری نوجوانوں کی نظر بندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی جیل سے فوری رہائی کا حکم جاری کیا ہے۔