Thursday, 03 September 2026, 10:07:09 am
 

مزید خبریں

 
ستمبر 1965 کی جنگ کے شہدا کو قوم کا سلام
September 03, 2026

ستمبر 1965 کی جنگ کے شہدا کو قوم آج بھی سلام پیش کرتی ہے۔

جنگِ ستمبر کے تیسرے روز کیپٹن غلام مرتضی اور میجر امان اللہ نے جوانمردی سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

کیپٹن غلام مرتضی کو آرمر رجمنٹ کے ساتھ میدانِ جنگ میں خراب ہونے والے ٹینکوں کو ٹھیک کرنے کا ٹاسک سونپا گیا تھا۔

آرمر یونٹ کو چھمب سیکٹر میں جوڑیاں پر قبضے کا ٹاسک دیا گیا، جس کے بعد ان کا حتمی ہدف اکھنور کو فتح کرنا تھا۔

تین ستمبر 1965 کو چھمب سیکٹر کو عبور کرنے کے بعد جوڑیاں کی جانب پیش قدمی شروع کر دی گئی۔

اس دوران کیپٹن غلام مرتضی کو دشمن کی انفنٹری اور بھاری توپوں کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

بلند حوصلوں سے سرشار پاکستانی آرمر رجمنٹ نے دشمن کے توپ خانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔

اسی دوران دشمن کا ایک گولہ پاکستانی ٹینک کو آ لگا، جس سے ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی۔

جیپ میں موجود کیپٹن غلام مرتضی فورا ٹینک کی جانب بڑھے، تو دشمن کی مشین گن کا برسٹ انہیں آ لگا، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔

زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بالآخر کیپٹن غلام مرتضی نے تین ستمبر 1965 کو جان، جانِ آفریں کے سپرد کردی۔

تین ستمبر کے نمایاں کردار ادا کرنے والوں میں میجر امان اللہ بھی شامل ہیں، جن کا تعلق آزاد کشمیر رجمنٹ سے تھا۔

میجر امان اللہ نے اپنی کمپنی کی قیادت کرتے ہوئے دشمن پر حملہ کیا اور گھمسان کی لڑائی کے بعد لالیل اور دیوا پر کامیابی سے قبضہ کرلیا۔

میجر امان اللہ تین اور چار ستمبر 1965 کی درمیانی شب دشمن کو ناکوں چنے چبواتے ہوئے شہادت کے رتبے پر فائز ہوگئے۔

کیپٹن غلام مرتضی اور میجر امان اللہ کا نام جنگِ ستمبر 1965 کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔