وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے طویل المدتی معاشی تبدیلی کیلئے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی و مغربی ایشیاء ینگ منگ یانگ (Yingming Yang) سے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے کیلئے خصوصی ٹاسک فورسز کے ذریعے مؤثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے سخت مالیاتی، ساختی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے مشکل معاشی بحالی کے مرحلے کو کامیابی سے عبور کیا ہے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں استحکام آیا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا جبکہ فِچ (Fitch)، موڈیز اور ایس اینڈ پی سمیت عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کیلئے مستحکم معاشی منظرنامے کی درجہ بندی کی ہے۔
شہباز شریف نے پاکستان میں شہری بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ اور عوامی خدمات کے اہم منصوبوں کی تکمیل میں اے ڈی بی کی مسلسل پیشہ ورانہ کارکردگی اور بروقت تعاون کو سراہا۔
ملاقات میں کراچی سے پشاور تک مین لائن ـ ون ریلوے کوریڈور کی جدید خطوط پر اپ گریڈیشن پر خصوصی توجہ دی گئی، جو قومی بنیادی ڈھانچے کی ایک اہم ترجیح ہے۔
وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ ایم ایل ـ ون کی اپ گریڈیشن مال برداری کے نظام کو جدید بنانے، علاقائی تجارتی روابط مضبوط کرنے اور بڑے صنعتی منصوبوں کو فروغ دینے کیلئے انتہائی اہم ہے۔
ملاقات میں ایم ایل ـ ون منصوبے پر جلد عملی کام شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، تاکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ملک میں رابطوں کے نظام کو جدید بنانے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔
اس موقع پر نجی شعبے کی معاونت، توانائی اور غذائی تحفظ، برآمدات کی مسابقتی صلاحیت میں اضافے، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی2030-2026 ء کی ترجیحات کو ٹھوس اور مؤثر اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا، جو پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کے معیارِ زندگی میں نمایاں بہتری لانے میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔