Sunday, 19 May 2024, 02:19:46 pm
سرینگر میں گروپ 20اجلاس کیخلاف کنٹرول لائن کے دونوں طرف مقیم کشمیریوں کی مکمل ہڑتال
May 22, 2023

فسطائی مودی حکومت کی جانب سے سرینگر میں جی 20اجلاس کے انعقاد کیخلاف آج کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی جانب سے مکمل ہڑتال کی گئی ہے۔

ہڑتال کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس نے کی اور دیگر حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے اس کی حمایت کی۔سرینگر میں ڈل جھیل کے کنارے تقریب کے اردگرد بھارتی فوجیوں، پیرا ملٹری فورسز، ایلیٹ نیشنل گارڈز اور کمانڈوز کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔دکانداروں بالخصوص لال چوک، ریذیڈنسی، بڈشاہ چوک، مائسمہ اور سرینگر کے دیگر علاقوں کے دکانداروں کو حکم کی تعمیل نہ کرنے کی صورت میں انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔تاہم دھمکیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کشمیری تاجر برادری نے آج اپنی دکانیں کھلی رکھیں۔ٹریفک کی نقل و حرکت کہیں نظر نہیں آئی، لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کو کہا گیا۔ادھر چین، سعودی عرب، ترکی، مصر اور انڈونیشیا اور میکسیکو سمیت جی 20 کے بہت سے ملکوں نے اجلاس میں شرکت سے انکار کیا ہے۔اُدھراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے سرینگر میں بھارت کی طرف سے گروپ بیس کے اجلاس کے خلاف آزاد جموں وکشمیر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں۔مظفرآباد میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کے بعد شہید برہان وانی چوک میں آزاد جموں وکشمیر لبریشن کمیشن نے ایک ریلی نکالی۔ریلی کے شرکاء نے عالمی برادری اور گروپ بیس کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے متنازعہ قرار دیئے گئے علاقے میں بھارت کی طرف سے اجلاس بلانے کا غیر قانونی اقدام مسترد کردیں۔ڈائریکٹر لبریشن کمیشن راجہ محمد اسلم، چیئرمین پاسبان حریت عزیر احمد غزالی اور دیگر مقررین نے جی ٹونٹی رکن ممالک سے اجلاس کے بائیکاٹ اور مظلوم کشمیریوں کی حمایت کا مطالبہ کیا جو گزشتہ سات دھائیوں سے بھارتی مظالم کا سامنا کررہے ہیں۔آزاد جموں وکشمیر کے تمام ڈویژنز اور ضلعی ہیڈکوارٹرز میں بھی ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا۔

دریں اثنا وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے مسئلہ کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے اور رہے گی۔آج مظفرآباد میں آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے حصول تک کشمیری عوام کی غیر متزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کشمیری بہن، بھائیوں کو یقین دلایا کہ پاکستان کشمیریوں پر جاری بھارتی ظلم وستم پر نہ پیٹھ دکھائے گا اور نہ خاموش تماشائی بنے گا۔انہوں نے کاہ کہ کشمیری گزشتہ سات دہائیوں سے بھارتی بربریت کے خلاف سینہ سپر ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ متنازعہ علاقے میں جی ۔20 اجلاس کے انعقاد پر بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے مظفرآباد آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت ایک اجلاس کے ذریعے کشمیریوں کو آواز کو دبا نہیں سکتا۔بلاول بھٹو زرداری نے بھارت سے کہا کہ اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرے، پانچ اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس اور کالے قوانین ختم کرے اور علامی مبصرین کو خطے کے دورے کی اجازت دے تاکہ وہ زمینی حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سیں۔انہوں نے کہا کہ ہم بھارت سمیت اپنے ہمسایہ ملکوں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن پرامن تعلقات کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

 

دریں اثنا آج اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مسئلہ کشمیر کو حق خود ارادیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔شرکا ء نے اقوام متحدہ کے دفتر میں ایک یادداشت پیش کی جس میں انتونیو گوتریس کی توجہ متنازعہ علاقے میں جی 20 کے اجلاس کے بھارتی حکومت کے مذموم اقدام اور کشمیریوں کی جائز جدوجہد پر اس کے سنگین اثرات کی طرف مبذول کرائی گئی۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارت کے شہر بنگلورو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو بدنام زمانہ امریکی فوجی جیل گوانتانامو بے میں تبدیل کر دیاہے۔ادھر مقبوضہ جموں وکشمیر میں جی 20اجلاس کے خلاف پورے یورپ بالخصوص برطانیہ میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔گروپ کے اجلاس کی مذمت کے لیے گلاسگو، بریڈ فورڈ، مانچسٹر، نیلسن، لوٹن اور برمنگھم میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔

ادھر چیئرپرسن پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن اور اسیر مرکزی کشمیری رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک کے زیرقیادت بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں گروپ بیس اجلاس کیخلاف آج اسلام آباد میں ایک احتجاجی ریلی کا اہتمام کیا گیا۔بڑی تعداد میں ریلی میں شریک افراد نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارت مخالف نعرے درج تھے۔ریلی زیروپوائنٹ سے شروع ہو کر نیشنل پریس کلب پر ختم ہوئی۔احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے میں گروپ بیس اجلاس کا انعقاد مودی حکومت کی جانب سے عالمی قوانین کی ایک اور خلاف ورزی ہے۔ریڈیوپاکستان کے نمائندے بلال محسود سے گفتگو کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہا کہ دنیا بھر میں مقیم پاکستانی اور کشمیری جموں و کشمیر پر بھارت کے غیرقانونی قبضے اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔