پاکستان کی وزیرِ مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری ڈاکٹر شذرہ منصب علی خان کھرل نے آج چین کے شہر شنجن میں تیمر کے جنگلات کے تحفظ کی مہم میں شرکت کی۔
پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل جناب سعید احمد شیخ بھی اُن پانچ مہمانوں میں شامل تھے جنہوں نے مشترکہ طور پر اس مہم کا افتتاح کیا۔
پاکستان بھی اُن ممالک میں شامل ہے جہاں تیمر کے جنگلات پائے جاتے ہیں۔ ملک کی ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ طویل ساحلی پٹی، جو سندھ اور بلوچستان کے صوبوں میں پھیلی ہوئی ہے، ان درختوں کا قدرتی مسکن ہے۔
ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شذرہ منصب علی خان کھرل نے کہا کہ پاکستان تیمر کے جنگلات کی نگرانی، تحفظ اور بحالی کے لیے پہلے ہی پُرعزم ہے، تاہم اس اہم کام کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی تکنیک کے استعمال کے حوالے سے چین کے تجربات سے بھی استفادہ کرے گا۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان سعید احمد شیخ نے تیمر کے جنگلات کے تحفظ کے بارے میں خصوصی ریڈیو پروگراموں اور دیگر متعلقہ نشریات کے ذریعے عوام میں شعور اجاگر کرنے کے اپنے ادارے کے عزم کا اعادہ کیا۔
شنجن میں جاری اس مہم کے ذریعے ساحلی آبادیوں کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کی بقا، روزگار کے ذرائع کو سہارا دینے اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے میں تیمر کے جنگلات کے اہم کردار کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان بھی ماحول دوست اور انسانوں کے لیے مفید تیمر کے ان درختوں کے تحفظ کی غرض سے سرکاری، نجی اور مقامی آبادیوں کے تعاون سے متعدد اقدامات کر رہا ہے۔ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں تیمر کے جنگلات کا رقبہ 1990ء میں تقریباً 50,973 ہیکٹر تھا، جو 2023ء تک بڑھ کر 101,446 ہیکٹر ہوچکا ہے۔