خلیجی بحران کے باعث بھارتی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے جبکہ اقوام متحدہ نے سنگین خطرات سے خبردار کر دیا ہے۔
مودی حکومت کی ناکام پالیسیوں نے بھارتی شہریوں کو غربت میں دھکیل کر معیشت کی بنیادی کمزوریوں کو عیاں کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ نے نام نہاد شائننگ انڈیا کے دعوؤں پر کھڑی معیشت کی حقیقت بھی سامنے رکھ دی ہے۔
اقوام متحدہ ڈیولپمنٹ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی بھارت میں مزید 25 لاکھ افراد کو غربت و افلاس سے دوچار کرے گی، جس کے بعد غربت میں زندگی گزارنے والے بھارتیوں کی تعداد تقریباً 35 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر خطے میں یہی صورتحال برقرار رہی تو خریف کی فصل شدید متاثر ہو گی جس سے خوراک کا بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں کاروبار شدید متاثر ہو رہے ہیں اور تقریباً 90 فیصد ملازمتوں پر سنجیدہ خطرات منڈلا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بحران نے پہلے سے زبوں حالی کا شکار بھارتی معیشت کی خود انحصار کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے جبکہ بھارت کا اقتصادی قوت بننے کا خواب مودی حکومت کی ناقص اور متعصبانہ پالیسیوں کے باعث چکنا چور ہو چکا ہے۔