Thursday, 25 July 2024, 06:58:30 pm
بجٹ میں کم آمدنی والے طبقوں کے تحفظ کے اقدامات شامل ہیں، وزیرخزانہ
June 13, 2024

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے وفاقی بجٹ میں زیادہ آمدن والے طبقے کیلئے معاشی فائدے کے ٹیکس متعارف کرائے ہیں۔

انہوں نے آج(جمعرات) کو اسلام آباد میں بجٹ کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معیشت کیلئے فائدہ مند انکم ٹیکس نظام پر عملدرآمد اور ٹیکس نادہندگان کا خاتمہ بجٹ کے اہم نکات ہیں۔

اصلاحات اور ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ مجموعی قومی پیداوار کا دس فیصد سے کم ٹیکس پائیدار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں آئندہ تین برسوں میں اسے بتدریج تیرہ فیصد تک بڑھانا ہوگا۔

انہوں نے انسانی مداخلت کم کرنے، ٹیکس طریقہ کار کو شفاف بنانے اور بدعنوانی کے امکانات کم کرنے کیلئے غیر دستاویزی معیشت کی ڈیجیٹائزیشن کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملکی معیشت کو پائیدار بنانے کیلئے ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنے کی جانب بڑھنے کی ضرورت ہے اور بوجھ بانٹنے کیلئے تھوک اور پرچون فروشوں کو ٹیکس دائرے میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ نقد ادارئیگیوں کو ترک کرتے ہوئے پوائنٹ آف سیل سکیم دوبارہ شروع کی جائیگی۔

پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پرتیل کی قیمتوں کے مطابق اس میں بتدریج اضافہ کیا جائیگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ استثنیٰ اور سیلری سلیب کی 35فیصد کی کیٹگری برقرار ہے اور ان کے درمیان دیگر سلیب میں تبدیلی ہوئی ہے۔

نوجوانوں کی ترقی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان فری لانسرز کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور نوجوانوں کو سازگار ماحول کی فراہمی کیلئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے ریکارڈ فنڈز مختص کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات کو سات ارب ڈالر تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

سرکاری شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے جاری ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے پر توجہ دی ہے اور اکاسی فیصد فنڈز ان سکیموں کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔

خزانے کے وزیر مملکت علی پرویز ملک نے ریلیف اقدامات سے متعلق کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت خاطرخواہ فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح دوسویونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے مخصوص صارفین سمیت بجلی کے صارفین کی سہولت کیلئے سب سے زیادہ تعداد میں سبسڈیز توانائی کے شعبے میں دی جائیںگی،۔