Sunday, 21 July 2024, 09:16:00 pm
سیاسی جماعتوں کا سی پیک کی حمایت کیلئے مثالی اتفاق رائے کا مظاہرہ
June 21, 2024

پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے چین پاکستان اقتصادی راہ داری کی حمایت کیلئے بے مثال اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا ہے۔

جمعہ کے روزاسلام آباد میں سی پیک پاکستان چین سیاسی جماعتوں کے فورم اور سی پیک سیاسی جماعتوں کے مشترکہ مشاورتی نظام کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں نے تمام مذموم عزائم کو ناکام بنا کر پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تعلقات مستحکم کرنے کیلئے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کے علاوہ ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان، پاکستان پیپلز پارٹی کی حناربانی کھر، سینیٹر سید علی ظفر، استحکام پاکستان پارٹی کی منزہ حسن، نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد، سینیئر سیاست دان افراسیاب خٹک اور دوسرے سیاست دانوں سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی اعلی قیادت نے اجلاس میں شرکت کی۔

مشترکہ مشاورتی نظام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اقتصادی راہداری کے لئے پرعزم ہیں کیونکہ اس سے صحت، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دوسرے شعبوں میں تعاون کو فروغ حاصل ہوا ہے اور ملک میں بجلی کے مسائل حل ہوئے ہیں۔انہوں نے دونوں ملکوں پر زور دیا کہ وہ خوشحال اور مستحکم مستقبل اور تعلیم اور سیاحت کے شعبوں میں شراکت کو مضبوط کریں۔قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ سی پیک کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی نے حکومت کی بھرپور نگرانی کویقینی بنایا ہے اور پاکستان کی پارلیمان کو مسلسل آگاہی فراہم کرتے ہوئے سی پیک کے منصوبوں پر پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا ہے۔انہوں نے پاکستان کی پارلیمان، حکومت اور عوام کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ماضی کی کامیابیوں کو بنیاد بنا کر یقینی بنایا جائیگا کہ اقتصادی راہداری اپنی پوری گنجائش کے ساتھ تکمیل کو پہنچے۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کشمیریوں کے نصب العین کی غیر مشروط حمایت کرنے پر چین کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور تائیوان کے مسئلے پر پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی اور منزہ حسن نے تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔سید علی ظفر نے اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے سیاسی جماعتوں کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے پر کام کو آگے بڑھایا جائیگا۔نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد نے بلوچستان کے نوجوانوں کو فنی تربیت دینے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ افراسیاب خٹک نے معاندانہ قوتوں کے مذموم عزائم سے متعلق خبردار کیا جو امن کو تباہ کرنا چاہتی ہیں۔