کل جماعتی حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو بالخصوص آئندہ سال ہونے والی مردم شماری کے تناظر میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آباد کاری کے استعماری منصوبے پر عملدرآمد سے روکیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں آئندہ سال دو مرحلوں میں مردم شماری کرائی جائے گی۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ اگست دوہزار انیس سے بی جے پی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں کئی سخت قوانین نافذ کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے علاقے کی آبادیاتی ساخت تبدیل کرنے کے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیری اراضی کی فروخت اور غیر مقامی لوگوں کے لیے ملازمتوں کے راستے کھول دیے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ کشمیری سرکاری ملازمین کو ان کے جائز عہدوں سے برطرف کرنا سول انتظامیہ میں مقامی آبادی کو پسماندہ کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔
اسے مقامی آبادی کے خلاف ایک گہری سازش قرار دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کیلئے نئے متعارف کرائے گئے ڈومیسائل قوانین کی آڑ میں آباد کاری کی استعماری مہم شروع کی گئی ہے۔