کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے غیرقانونی گرفتاریوں کی بڑھتی ہوئی لہرکی شدید مذمت کی ہے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی فوجی اور پولیس لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور آزادی کی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے مسلسل چھاپے مار رہے ہیں اور کشمیریوں کو گرفتار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دوروز میں شمالی کشمیر کے علاقے سوپور میں تازہ ترین کارروائی کے دوران کم از کم تیرہ طلبا کو گرفتار کیا گیا ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے اسے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے جائز مطالبے کو دبانے کی ایک منظم مہم قرار دیا۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارتی جابرانہ اقدامات کشمیریوں کو ان کی جدوجہد آزادی آگے بڑھانے سے نہیں روک سکتے اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان مسلسل کارروائیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ بھارت کے اقدامات پر اس کا کڑا احتساب ہونا چاہیے۔
انہوں نے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں بند کرانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
ادھر بھارتی قابض فوج نے کشمیریوں کی مزید املاک پر قبضے اورانھیں مسمار کرنے کا اپنا ایجنڈا تیز کر دیا ہے۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق پولیس نے بھارت کے مقررہ کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے اسلام آباد اور پلوامہ اضلاع میں ظالمانہ قوانین کے تحت ایک کمرشل پراپرٹی اور چار مکانات کو ضبط کر لیا۔
تجارتی املاک کو بعد میں منہدم کر دیا گیا۔
دوسری جانب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے آئندہ غیر منطقی حد بندی مشق سے خبردار کیا ہے۔