پاکستان اپنی متوازن حکمت عملی اور امریکہ ایران جنگ میں کامیاب ثالثی سے عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے جبکہ خلیج جنگ کے معاملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی اسرائیل نواز پالیسی نے بھارت کی نام نہاد سٹرٹیجک خودمختاری اور اس کی غیر واضح خارجہ پالیسی پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
عالمی جریدے ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ایران امریکہ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا جبکہ بھارت سفارت کاری کے محاذ پر بالکل خاموش رہا ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے محض تیل اور سپلائی کے نظام کی بات کی جبکہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی جنگ بندی کیلئے سفارتکاری کی بجائے رابطے اور یقین دہانی تک محدود رہا۔
ایشیا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق چین اور پاکستان کے قریبی روابط نے خطے میں بھارت کی نام نہاد اہمیت کو شدید دھچکا پہنچایا جس سے امریکہ کیلئے بھارت پر اعتماد کرنا مشکل ہو گیا۔